ممبئی،17؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی تفتیشی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جمعہ کومہاراشر کے سابق وزیر داخلہ اور این سی پی کے سینئر لیڈر انل دیشمکھ کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئےممبئی اور اُورن میں ان کی اور ان کے اہل خانہ کی 4.20؍کروڑ کی جائیداد قرق کرلی۔ای ڈی نے یہ کارروائی کئی سمن کے باوجود انل دیشمکھ کے حاضر نہ ہونے کے بعد کی ہے۔ دیشمکھ نے ای ڈی کی جانچ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور اپیل کی ہے کہ وہ ای ڈی کو ان کے خلاف کسی سخت کارروائی سے باز رہنے کی ہدایت دے تاہم ای ڈی نےجمعہ کو ان کی املاک ضبط کرلیں۔
ممبئی اور اورن میں کارروائی: انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے ) کے تحت کی گئی اس کارروائی کے بعد جاری کئے گئے بیان میں ای ڈی نے کہا ہے کہ ’’ضبط کی گئی املاک ورلی میں رہائشی فلیٹ جس کی قیمت ایک کروڑ54 لاکھ رپے ہے اور اُورن کے دھوتم گاؤں میں زمین پر مبنی ہے جس کی مالیت کاغذ پر 2 کروڑ 67 لاکھ روپے ہے۔‘‘
4.7کروڑ کی رشوت کا ثبوت: ای ڈی : ان الزامات کے بیچ کہ ای ڈی کا استعمال کر کے مرکزکی مودی حکومت مہاراشٹر میں این سی پی کو پریشان کرنے اوراس سے سیاسی انتقام لینے کی کوشش کررہی ہے، تفتیشی ایجنسی نے اپنی کارروائی کو جائز ٹھہرایا ہے۔ اس کے مطابق مہاراشٹر کے وزیر داخلہ کے عہدہ پر فائز رہتے ہوئے انل دیشمکھ نے فی الحال معطل اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر سچن وازے کے توسط سے ’’ بار اور آرکیسٹرا مالکان سے 4کروڑ 70؍ لاکھ روپے کی رشوت وصول کی تھی۔‘‘ ای ڈی کے مطابق دیشمکھ فیملی نے4.81 کروڑ روپے کی غیر قانونی رقم کو سری سائی شکشن سنستھا کو ملنے والاعطیہ دکھا کر جائز رقم بنانےکی کوشش کی ہے۔
2004 میں خریدا گیا فلیٹ بھی قرق: ای ڈی نے ورلی میں واقع انل دیشمکھ کا جو فلیٹ قرق کیا ہے وہ ان کی اہلیہ آرتی دیشمکھ کے نام ہے مگر تفتیشی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ یہ دیشمکھ کی ہی ملکیت ہے۔ یہ فلیٹ 2004 میں نقد رقم ادا کرکے خریدا گیاتھا مگر ای ڈی نے اسے ضبط کرنے کا جواز یہ کہہ کر پیش کیا ہے کہ اس کی فروختگی کا معاہدہ 2020 میںہوا ہے جب دیشمکھ وزیر داخلہ کے عہدہ پر فائز تھے۔ ای ڈی نے انل دیشمکھ کی اہلیہ آرتی دیشمکھ کو بھی پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیاتھا مگر وہ عمر اور علالت کا حوالہ دیتے ہوئے حاضر نہیں ہوئی تھیں ۔ یجنسی کے مطابق پریمیر پورٹ لنکس پرائیویٹ لمیٹیڈ میں 50 فیصد مالکانہ حقوق دیشمکھ اوران کے اہل خانہ کے پاس ہیں جو دکانوں اور زمینوں کی شکل میں ہیں اور جن کی کل قیمت 5کروڑ 34 لاکھ ہے لیکن صرف 18لاکھ 95 ہزار ہی ادا کئے گئے ہیں ۔